سری نگر،29؍جنوری(ایس او نیوز؍یو این آئی) پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا الزام ہے کہ مرکزی حکومت کشمیر کے بعد اب ملک کے دیگر حصوں میں بھی لوگوں کی آواز کو خاموش کرنے کے لئے یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کا استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے پر امن احتجاجوں کو ملک دشمن قرار دیا جا رہا ہے اور ان کو دبانے کے لئے دہشت گردی مخالف قوانین کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ موصوفہ نے ان باتوں کا اظہار جمعہ کے روز اپنے ایک ٹوئٹ میں کیا۔
انہوں نے ٹوئٹ میں کہا کہ ’حکومت ہند کشمیریوں کو خاموش کرانے کے لئے استعمال کیے جانے والے کالے قوانین کا اب ملک کے دیگر حصوں میں بھی استعمال کر رہی ہے۔ خوا ہ وہ سی اے اے کے احتجاج ہوں یا کسانوں کے احتجاج، ان دونوں پر امن احتجاجوں کو ملک دشمن قرار دیا جا رہا ہے اور انہیں دبانے کے لئے یو اے پی اے جیسے دہشت گردی مخالف کالے قوانین کا استعمال ہو رہا ہے‘۔
بتادیں کہ محبوبہ مفتی نے گزشتہ روز زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے کسان گھبرائے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس بندے نے یوم جمہوریہ کی تقریب کے موقع پر دلی میں تشدد کو ہوا دی اس کے بی جے پی لیڈروں کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔